حدیث نمبر: 24067
٢٤٠٦٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع (١) قال: سمعنا تفسير المزابنة: اشتراء ما في رؤوس النخل بالتمر، والمحاقلة: (اشتراء) (٢) ما (في) (٣) السنبل بالحنطة والشعير، والعرايا: الرجل تكون له النخلة يرثها أو يشتريها في بستان الرجل.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت وکیع فرماتے ہیں کہ ہم نے مزابنہ کی تفسیر یوں سے سنی ہے کہ درخت پر لگی ہوئی کھجوروں کو کٹی کھجوروں کے بدلے خریدنا، اور محاقلہ یہ ہے کہ خوشہ میں لگی ہوئی سے گندم یا جو خریدنا اور عرایا یہ ہے کہ : کسی آدمی کا درخت ہو ، جس کا وارثت کے طور پر مالک بنا ہوا یا پھر کسی دوسرے کے باغ سے اس نے یہ درخت خریدا ہو۔

حواشی
(١) في [هـ]: زيادة (حدثنا وكيع)، وفي (ط): (حدثنا مطيع).
(٢) في [أ، ح، ط]: (اشترى).
(٣) سقط من: [ز].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 24067
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24067، ترقيم محمد عوامة 23043)