حدیث نمبر: 24060
٢٤٠٦٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن (عيينة) (١) عن عمرو عن إسماعيل الشيباني قال: (بعت) (٢) ما في رؤوس النخل إن زاد فلهم، وإن نقص فعليهم، فسألت ابن عمر فقال: نهى رسول اللَّه ﷺ عن ذلك إلا أنه قد رخص في العرايا (٣).مولانا محمد اویس سرور
اسماعیل الشیبانی فرماتے ہیں کہ میں نے درختوں کے سروں کو اس شرط کے ساتھ فروخت کیا کہ اگر زیادہ ہوئے تو ان کے اور اگر کم ہوئے تو ان پر ہیں، پھر میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس کے متعلق سوال کیا ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔ صرف عرایا میں اس کی اجازت دی ہے۔
حواشی
(١) في [هـ]: (علية).
(٢) في [ح]: (بعث).