مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
المكاتب يجيء بمكاتبته جميعا باب: مکاتب اگر اپنا بدلِ کتابت سارا ایک ساتھ لے آئے
٢٤٠١٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن إسرائيل عن عبد العزيز بن رفيع عن أبي بكر بن عمرو بن حزم أن رجلًا كاتب غلاما له فنجمها عليه نجوما فأتاه بمكاتبته كلها، فأبى أن يقبلها المولى إلا نجوما، فأتى المكاتب عمر (فأرسل) (١) إلى مولاه فجاء فعرض عليه المال، فأبى أن يأخذه فقال عمر: يا يرفأ (ادفعه) (٢) في بيت المال، وقال للمولى: (خذها) (٣) نجوما، وقال للمكاتب: اذهب حيث شئت (٤).حضرت ابوبکر بن عمرو بن حزم سے مروی ہے کہ ایک شخص نے اپنے غلام کو مکاتب بنایا، اور اس پر قسط وار بدل کتابت ادا کرنے کی شرط لگائی، مکاتب اپنا سارا بدل کتابت لے کر آیا، تو اس کے آقا نے سارا ایک ساتھ وصول کرنے سے انکار کردیا، وہ مکاتب حضرت عمر کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ نے اس کے آقا کی طرف بلاوا بھیجا، وہ آیا تو آپ نے اس پر وہ سارا مال پیش کیا، لیکن اس نے وصول کرنے سے انکار کردیا، حضرت عمر نے فرمایا اے یرفأ! اِ س مال کو بیت المال میں رکھ دے، اور آقا سے فرمایا بیت المال سے قسط وار وصول کرتا رہے۔ اور غلام سے فرمایا تو جا تو آزاد ہے۔