حدیث نمبر: 24014
٢٤٠١٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن هاشم عن (ابن) (١) أبي ليلى عن (أبيه عن) (٢) ضبة قال: رفع إلى عمر مكاتب جاء بالمال بجملته، فقال مولاه: لا ⦗٣٩٦⦘ أقبله منك، إنما كاتبتك لآخذه منك نجوما في السنين (ينفعني) (٣)، ولعلك مع ذلك (أن) (٤) تموت فأرثك، فأمر عمر بالمال فوضعه في بيت المال ثم (أجراه) (٥) عليه نجوما وأمضى عتقه (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس مسئلہ گیا کہ مکاتب اپنا سارا بدل کتابت ایک ساتھ لے آیا ہے لیکن آقا نے کہا میں اس کو ایک ساتھ وصول نہیں کروں گا، میں نے اس کو مکاتب اس لئے بنایا تھا کہ میں اپنے نفقہ کے طور پر اس سے دو سال تک تھوڑا تھوڑا کر کے وصول کرتا رہوں گا اور اس دوران شاید یہ فوت ہوجائے تو اس کا وارث بنوں، حضرت نے حکم دیا کہ مال اس سے لے کر بیت المال میں رکھ دو ، پھر اس کے آقا کو قسط وار دیتے رہو، اور اس کے غلام کے لئے آزادی کا فیصلہ فرما دیا۔

حواشی
(١) سقط من [أ، ح، ط].
(٢) في [أ، جـ، ح، ز، ط، هـ]: (أبي) وضبة بن محصن.
(٣) في [جـ]: (لينفعنى).
(٤) سقط من [ح، ط، هـ].
(٥) في [ط]: (أجره).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 24014
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف منقطع؛ ابن أبي ليلى ضعيف، وابن أبي ليلى لم يدرك ضبة.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24014، ترقيم محمد عوامة 22994)