مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
الرجل يشتري العبد له المال أو النخل فيه التمر باب: کوئی شخص ایسا غلام خریدے جس کے پاس مال ہو یا پھر پھل دار درخت ہوں
حدیث نمبر: 23981
٢٣٩٨١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأحوص عن عبد العزيز (بن) (١) رفيع عن عطاء وابن أبي مليكة قالا: قال رسول اللَّه ﷺ: "من باع عبدا وله مال فماله للبائع إلا أن يشترط المبتاع، يقول: اشتريته منك وماله، ومن باع نخلا قد (أبر) (٢) فثمرته للبائع إلا أن يشترط المبتاع" (٣).مولانا محمد اویس سرور
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص ایسا غلام خریدے جس کے پاس مال بھی ہو تو وہ مال بائع کا ہوگا، مگر یہ کہ خریدنے والا اس کی بھی شرط لگا دے ان الفاظ کے ساتھ کہ میں اس کو اور اس کے مال کو آپ سے خریدتا ہوں، اور جو شخص ایسا درخت خریدے، جس کے پھل پک چکے ہوں تو اس کے پھل بائع کے ہوں گے، مگر یہ کہ خریدنے والا پھلوں کی بھی شرط لگا دے۔
حواشی
(١) في [ط]: (عن).
(٢) في [هـ]: (أدبر).