مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
من قال: إذا صرفت فلا تفارقه وبينك وبينه لبس باب: جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ جب آپ بیع کرو تو جب تک آپ کے اور اُس کے درمیان اشتباہ ہو اُس سے جدا نہ ہو
حدیث نمبر: 23967
٢٣٩٦٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة قال: (سمع) (١) (عمرو) (٢) بن عمر يقول: (قال عمر) (٣): (إذا) (٤) استنظرك (حلب) (٥) ناقة فلا (تنظره) (٦) يعني: في الصرف (٧).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہارشاد فرماتے ہیں کہ اگر تم سے اونٹنی کا دودھ نکالنے کی مہلت بھی مانگے (بیع صرف میں) تو مہلت مت دو ۔
حواشی
(١) في [ز]: (سمعت).
(٢) سقط من: [ز].
(٣) سقط من: [ز].
(٤) سقطت من [هـ].
(٥) في [ط]: (صلب).
(٦) في [ح، ط، أ]: (تنتظره).