حدیث نمبر: 23748
٢٣٧٤٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا إسماعيل بن إبراهيم (عن) (١) ابن أبي نجيح عن عبد اللَّه بن كثير عن أبي المنهال عن ابن عباس قال: قدم النبي ﷺ المدينة والناس يسلفون في التمر العام والعامين والثلاثة، فقال: "من (سلّف) (٢) في تمر فليسلف في كيل معلوم ووزن معلوم (إلى أجل معلوم) (٣) " (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو لوگ کھجوروں میں ایک سال، دو اور تین سال کے لئے سلم کرتے تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص کھجور میں بیع سلم کرتے تو اس کو چاہیے کہ کیل اور وزن معلوم اور وقت مقررہ تک کے لئے بیع سلم کرے۔
حواشی
(١) سقط من [جـ].
(٢) في [ط، هـ]: (أسلف).
(٣) سقط من [جـ، ز].