حدیث نمبر: 23747
٢٣٧٤٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة [(عن عاصم) (١) بن بهدلة] (٢) عن زر بن حبيش عن عبد اللَّه قال: كنت غلاما يافعا (أرعى) (٣) غنما لعقبة بن أبي معيط، فجاء النبي ﷺ وأبو بكر، وقد (فرا) (٤) من ⦗٣٢٦⦘ المشركين، فقالا: يا غلام، هل عندك (٥) لبن تسقينا، (فقلت) (٦): إني مؤتمن، و (لست) (٧) (ساقيكما) (٨)، فقال: النبي ﷺ (٩): "هل عندك من جذعة لم (ينز) (١٠) عليها الفحل" قلت: نعم، (١١) فأتيتهما بها، (فاعتقلها) (١٢) رسول اللَّه ﷺ ومسح الضرع ودعا (١٣) ثم أتاه (أبو بكر) (١٤) (بصحرة) (١٥) (منقعرة) (١٦)، فاحتلب فيها فشرب وشرب أبو بكر وشربت، ثم قال: للضرع: "اقلص"، فقلص (١٧).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ میں قریب البلوغ لڑکا تھا اور عقبہ بن ابی معیط کی بکریاں چرایا کرتا تھا، حضرت محمد ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ میرے پاس تشریف لائے، وہ دونوں مشرکین مکہ سے بھاگ رہے تھے، اُن دونوں نے کہا، اے لڑکے ! تیرے پاس دودھ ہے جو ہمیں پلائے ؟ میں نے عرض کیا میں امانت دار ہوں تم کو نہیں پلاؤں گا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تمہارے پاس کوئی ایسی اونٹنی ہے جس پر نر اونٹ کو نہ چھوڑا گیا ہو ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ہے، میں اس اونٹنی کو لے کر آپ کی خدمت میں آیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ٹانگ کو باندھ دیا اور اس کے تھنوں کو ہاتھ لگاکر دعا فرمائی۔ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ پتھر کا پیالہ (نما) لے کر حاضر ہوئے پھر اس میں دودھ نکالا اور خود پیا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پیا اور میں نے پیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تھنوں کو مخاطب کر کے فرمایا : تو دوبارہ سکڑ جا ! وہ تھن دوبارہ سکڑ گئے۔

حواشی
(١) سقط من [أ، ح، ط].
(٢) سقط من [جـ، ز].
(٣) في [أ، ح، ط، ز]: (نرى).
(٤) في [أ، ح، ط]: (فروا).
(٥) في [جـ، ز]: زيادة (من).
(٦) في [أ، ح، ط]: (فقال).
(٧) في [أ، جـ، ح، ط]: (ليس).
(٨) في [جـ، ز]: (بساقيكما).
(٩) في [أ، جـ]: ﵇.
(١٠) في [ط، أ، ح]: (يبن).
(١١) في [ز]: زيادة (قال).
(١٢) في [أ، ح، ط]: (فاعقلها).
(١٣) في [هـ]: زيادة (فحفل الضرع).
(١٤) سقط من [هـ].
(١٥) في [ح]: (لصخرة).
(١٦) في [ح، أ، ط]: (منعقرة).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23747
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ عاصم ضعيف في زر، أخرجه أحمد (٤٤١٢)، وابن حبان (٧٠٦١)، وأبو يعلى (٥٠٩٦)، والطبراني (٨٤٥٦)، والبيهقي في دلائل النبوة ٦/ ٨٤، والطيالسي (٣٥٣)، وابن سعد ٣/ ١٥٠، والشاشي (٦٥٩)، وأبو نعيم في الدلائل (٢٣٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23747، ترقيم محمد عوامة 22743)