حدیث نمبر: 23746
٢٣٧٤٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا إسرائيل عن عبد اللَّه بن عصمة قال: سمعت أبا سعيد الخدري يقول: لا يحل لرجل أن يحلب ناقة رجل مصرورة إلا بإذن صاحبها، ألا إن خاتمها صرارها، فإن (أرمل) (١) القوم (فلينادي) (٢) الراعيَ ثلاثًا، فإن أجاب شربوا، وإلا فليمسكه رجلان وليشربوا (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہارشاد فرماتے ہیں کہ کسی شخص کے لئے جائز نہیں کہ وہ کسی کی اونٹنی کا دودھ بغیر اجازت استعمال کرے جس اونٹنی کے تھنوں کو باندھا گیا ہو، بیشک اس کے تھنوں کو باندھنا اس کی مہر ہے (یعنی اب اس میں سے استعمال نہیں کرسکتے) اور اگر لوگ (قوم) زاد راہ ختم کر کے مفلس ہوجائیں تو پھر چرواہے کو تین بار پکارو، اگر وہ تمہاری پکار کا جواب دے تو اس سے لے کر پی لو، وگرنہ دو شخص اس کو پکڑیں اور دودھ نکال کر پی لیں۔

حواشی
(١) في [أ، ح، ط، ز]: (أوبل).
(٢) في [أ، هـ، ح، ط]: (فينادى).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23746
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ عبد اللَّه بن عِصمة صدوق، أخرجه الطحاوي ٤/ ٢٤١، كما أخرجه مرفوعًا أحمد (١١٤١٩)، والطحاوي ٤/ ٢٤١، والبيهقي ٩/ ٣٦٠، وبنحوه ابن ماجة (٢٣٠٥)، وابن حبان (٥٢٨١)، الحاكم (٤/ ١٣٢)، وأبو يعلى (١٢٨٧)، وأبو نعيم في الحلية ٣/ ٩٩، وابن الجوزي في التحقيق (١٩٧٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23746، ترقيم محمد عوامة 22742)