حدیث نمبر: 23744
٢٣٧٤٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا (عبيد اللَّه) (١) بن عمر عن نافع عن ابن عمر قال: نهى رسول اللَّه ﷺ أن (تحتلب) (٢) المواشي إلا بإذن أهلها، (و) (٣) قال: أيحبُّ أحدكم أن تؤتى مشربته التي فيها طعامه فيكسر بابها (فينتثل) (٤) ما فيها؟ (فإن) (٥) ما (في) (٦) (ضروع) (٧) مواشيهم (مثل) (٨) ما في (مشاربكم) (٩) ألا! فلا يحل ما في ضروعها إلا بإذن أهلها (١٠).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مویشیوں کا دودھ بغیر اجازت نکالنے سے منع فرمایا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا، کیا تم میں سے کوئی شخص یہ پسند کرتا ہے کہ کوئی اس کے کمرے میں آئے جس میں اس کا سامانِ خوراک موجود ہو اور اس کا دروازہ توڑے اور جو کچھ اس میں ہے اس کو لے جائے ؟ بیشک جو کچھ جانوروں کے تھنوں میں ہے وہ تمہارے کمروں کی طرح ہے، پس بغیر اجازت کے جو کچھ تھنوں میں ہے اس کا استعمال حلال نہیں ہے۔
حواشی
(١) في [جـ، ز]: (عبد اللَّه).
(٢) في [جـ]: (تحلب).
(٣) في [أ]: (أو).
(٤) في [أ، ح، ط]: (فينتقل).
(٥) في [أ، هـ]: (فإنما)، وفي [جـ]: (فإنمار).
(٦) سقط من [ط].
(٧) في [جـ]: (بطون).
(٨) في [ز]: (بمثل).
(٩) في [ط]: (شاربكم).