مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
الرجل يدفع إلى الرجل المال مضاربة باب: کوئی شخص کسی کو مال مضاربت کے طور پر دے
حدیث نمبر: 23728
٢٣٧٢٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن هشام عن الحسن في رجل دفع إلى رجل ثلاثة آلاف درهم مضاربة، فركب البحر (فكُسر به) (١) فهلكت ألفان وبقيت ألف، فاتجر في تلك الألف فأصاب مالا، كيف يقسمان؟ قال: لا يقسمان حتى تكون ثلاثة (آلاف) (٢) ثم يقسمان الربح بعد.مولانا محمد اویس سرور
حسن سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص نے دوسرے کو تین ہزار درہم بطور مضاربت دئیے، وہ کشتی میں سوار ہوا اور وہ ٹوٹ گئی تو اس کے دو ہزار ضائع ہوگئے اور ایک ہزار باقی بچ گیا، اس شخص نے ایک ہزار میں تجارت کی اور کچھ نفع کمایا تو اب وہ نفع کس طرح تقسیم کریں گے ؟ آپ نے فرمایا جب تک وہ تین ہزار نہ ہوجائیں وہ تقسیم نہیں کریں گے پھر اس کے بعد نفع تقسیم کریں گے۔
حواشی
(١) في [أ، ح، ز، ط]: (فكسرته).
(٢) سقط من [ط، هـ].