حدیث نمبر: 23705
٢٣٧٠٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا هشام عن قتادة عن سعيد ابن أبي الحسن قال: إني لأعجب من الذي (يأتمنه) (١) الناس (٢) يقضي بينهم ثم يأخذ على ذلك أجرا.مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن ابی الحسن فرماتے ہیں کہ مجھے اس شخص پر تعجب آتا ہے کہ لوگوں نے اسے امانت دار سمجھا یہاں تک کہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرتا ہے، پھر وہ اس پر اجرت وصول کرتا ہے۔
حواشی
(١) في [جـ، ط]: (يئتمنه)، وفي [حـ]: (أيمنه)، وفي [ز]: (يمينه).
(٢) في [هـ، ط]: زيادة (حتى).