حدیث نمبر: 23690
٢٣٦٩٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: يكره دينار شامي بدينار (كوفي) (١) و (درهم) (٢)، ولا بأس إذا كان لك على رجل دينار كوفي (فيعطيك) (٣) دينارا شاميا وتشتري الفضل منه بشيء، ولا تفترقا إلا وقد تصرم ما بينهما.
مولانا محمد اویس سرور

ابراہیم ناپسند کرتے تھے کہ شامی دینار کو کوفی دینار اور ایک درہم کے بدلے فروخت کیا جائے، اور اس میں کوئی حرج نہیں ہے جبکہ کسی شخص کے ذمہ کوئی دینار ہوں، اور وہ آپ کو شامی دینار دے دے، اور زیادتی کے بدلے کوئی چیز خرید لے، اور وہ دونوں اس وقت تک جدا نہ ہوں جب تک کہ آپس کا معاملہ ختم نہ کرلیں۔

حواشی
(١) في [ط]: (في).
(٢) في [ز]: (دراهم).
(٣) في [أ، ح، ط، هـ]: (فتعطيه).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23690
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23690، ترقيم محمد عوامة 22694)