مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في كسب الأمة باب: برائیں (امہ) کے کسب (کمایا ہوا مال) کے بارے میں
حدیث نمبر: 23684
٢٣٦٨٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (وكيع قال: حدثنا) (١) سفيان عن أبي النضر عن (أبي) (٢) أنس قال: سمعت عثمان يقول: لا تُكلِّفوا الصغير الكسب فيسرق، ولا (تكلفوا) (٣) الجارية غير ذات الصنع فتكسب بفرجها، (واعفوا) (٤) ⦗٣٠٩⦘ (إذ) (٥) أعفكم اللَّه، وعليكم من المكاسب (بما) (٦) طاب لكم (٧).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عثمان رضی اللہ عنہارشاد فرماتے ہیں کہ بچے کو کمائی کرنے کا مکلف نہ بناؤ ورنہ وہ چوری کرے گا، اور باندی کو کمائی کا مکلف نہ بناؤ ورنہ اپنی شرمگاہ سے کمائی حاصل کرے گی، اور پاک دامن رہو جب اللہ نے تمہیں پاک دامن رکھا ہے، اور تمہارے لئے وہ منافع ہیں جو تمہارے پاک اور حلال ہیں۔
حواشی
(١) سقط من [هـ، ط].
(٢) في [جـ]: (ابن).
(٣) في [هـ]: (تكلف).
(٤) في [هـ]: (وعفوا)، وفي [جـ]: (فاعفوا).
(٥) في [جـ]: (إذا).
(٦) في [هـ]: (ما).