حدیث نمبر: 23682
٢٣٦٨٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم عن أبي (بلج) (١) الفزاري عن عباية ⦗٣٠٨⦘ ابن (رفاعة) (٢) بن (رافع) (٣) الأنصاري أن جده توفي وترك أمة (تُغِلُّ) (٤)، فذو ذلك للنبي ﷺ فكره كسب الأمة وقال: "لعلها (أن) (٥) لا تجد فتبغي بنفسها" (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبایہ بن رفاعہ فرماتے ہیں کہ ان کے دادا کا انتقال ہوا اور انہوں نے ایک باندی چھوڑی جو کمائی کرتی تھی۔ اس بات کا حضور ﷺ سے ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باندی کی کمائی کو مکروہ قرار دیا اور فرمایا کہ شاید اس کے پاس کوئی راستہ نہیں اس لیے وہ ایسا کرتی ہے۔

حواشی
(١) في [أ، هـ، ط]: (صالح)، وفي [ز]: (أفلح).
(٢) في [ح]: (رفاع).
(٣) سقط من [ز].
(٤) في [ح]: غير واضح، وفي [أ، هـ]: (نفل).
(٥) في [جـ]: زيادة (أن).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23682
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ عباية تابعي، أخرجه أحمد (١٧٢٦٨)، والطيالسي (٩٦٩)، والطبراني (٤٤٠٨)، وابن الجعد في المسند (١٧٠٦)، وبنحوه أخرجه أبو داود (٣٤١٩)، والحاكم ٢/ ٤٢.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23682، ترقيم محمد عوامة 22686)