حدیث نمبر: 23636
٢٣٦٣٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: (حدثنا) (١) جعفر بن برقان عن ميمون بن مهران قال: كاتب ابن عمر غلاما له (فجاءه) (٢) بنجمه حين حل، فقال: من أين لك هذا؟ قال: كنت أسأل وأعمل، قال: تريد أن تطعمني أوساخ الناس؟ أنت حر ولك نجمك هذا (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے غلام کو مکاتب بنایا تو وہ آپ کے پاس بدل کتابت کی قسط لے کر حاضر ہوا جب آپ تشریف لائے، آپ نے دریافت کیا کہ کہاں سے لے کر آیا ہے ؟ غلام نے کہا کہ میں نے لوگوں سے سوال کیا اور کچھ کام کیا، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کیا تو مجھے لوگوں کے مال کی میل کھلانا چاہتا ہے ؟ جا تو آزاد ہے ، اپنی قسط بھی لے جا۔

حواشی
(١) في [ز]: (أخبرنا).
(٢) في [هـ]: (فجاء).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23636
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23636، ترقيم محمد عوامة 22644)