مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
من كره أن يكاتب عبده إن لم (يكن) له حرفة باب: جو حضرات اس بات کو ناپسند کرتے ہیں کہ غلام کے پاس اگر کوئی پیشہ نہ ہو اور پھر اُس کو مکاتب بنایا جائے
حدیث نمبر: 23636
٢٣٦٣٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: (حدثنا) (١) جعفر بن برقان عن ميمون بن مهران قال: كاتب ابن عمر غلاما له (فجاءه) (٢) بنجمه حين حل، فقال: من أين لك هذا؟ قال: كنت أسأل وأعمل، قال: تريد أن تطعمني أوساخ الناس؟ أنت حر ولك نجمك هذا (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے غلام کو مکاتب بنایا تو وہ آپ کے پاس بدل کتابت کی قسط لے کر حاضر ہوا جب آپ تشریف لائے، آپ نے دریافت کیا کہ کہاں سے لے کر آیا ہے ؟ غلام نے کہا کہ میں نے لوگوں سے سوال کیا اور کچھ کام کیا، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کیا تو مجھے لوگوں کے مال کی میل کھلانا چاہتا ہے ؟ جا تو آزاد ہے ، اپنی قسط بھی لے جا۔
حواشی
(١) في [ز]: (أخبرنا).
(٢) في [هـ]: (فجاء).