حدیث نمبر: 23620
٢٣٦٢٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا شريك عن سماك عن عكرمة عن ابن عباس قال: قدمت (عير) (١) إلى المدينة، فاشترى النبي ﷺ منها فربح (أواقيَّ) (٢) فقسمها في أرامل بني عبد المطلب، وقال: "لا أشتري (شيئًا) (٣) ⦗٢٩٠⦘ (ليس) (٤) عندي ثمنه" (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مدینہ میں خچروں کا ایک قافلہ آیا جس پر سامان تجارت تھا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں خریدا اور کچھ چاندی زائد بچ گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بنی عبد المطلب کے مساکین میں تقسیم فرما دیا اور فرمایا : میں ایسی چیز نہیں خریدنا جس کی قیمت میرے پاس نہ ہو۔
حواشی
(١) في [ط]: (غير).
(٢) في [أ، هـ، ط]: (أواقًا).
(٣) سقط من: [ز].
(٤) سقط من: [ط].