٢٣٦١٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا موسى بن عُليِّ (عن) (١) (أبيه) (٢) قال: سمعت عمرو بن العاص يقول: (قال) (٣) رسول اللَّه ﷺ: "يا عمرو! أشدد عليك سلاحك وثيابك (فائتني) (٤) "، قال: فشددت عليَّ سلاحي وثيابي ثم أتيته فوجدته يتوضأ، فصعد في البصر (وصوبه) (٥) فقال: "يا عمرو" (٦) اني أريد أن أبعثك وجها يُسلّمُك اللَّه ويُغنمُك، (فأرغب لك من المال رغبة ⦗٢٨٩⦘ صالحة) (٧) "، قال: قلت يا رسول اللَّه! إني لم أسلم رغبة (في) (٨) المال، إنما (أسلمت) (٩) رغبة في الجهاد والكينونة معك، قال: "يا عمرو! نعما بالمال الصالح (للرجل) (١٠) الصالح" (١١).نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرو رضی اللہ عنہ سے فرمایا : اے عمرو ! اپنے کپڑے پہن کر اور اپنا اسلحہ باندھ کر میرے پاس آؤ، حضرت عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے کپڑے پہنے اور اسلحہ باندھا، پھر میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے آپ کو وضو کرتا ہوا پایا، حضور نے اوپر سے نیچے تک میرا مکمل جائزہ لیا، پھر نگاہ کو جھکا لیا، پھر فرمایا کہ میں تم کو ایسی جگہ بھیجنا چاہتا ہوں جہاں تم کو اللہ تعالیٰ سلامتی اور مال غنیمت بھی عطا کرے گا۔ میں تم کو اس میں سے کچھ مال بھی دوں گا۔ حضرت عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ! میں نے مال کی رغبت کی وجہ سے اسلام قبول نہیں کیا، میں نے تو جہاد اور آپ کے ساتھ رہنے کی وجہ سے اسلام قبول کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے عمرو رضی اللہ عنہ ! پاکیزہ مال نیک شخص کے لئے بہت اچھا ہے۔