٢٣٦١٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا الأعمش (عن) (١) شقيق عن (مسروق) (٢) عن عائشة قالت: قال أبو بكر في مرضه الذي مات فيه: انظروا ما زاد في مالي منذ دخلت في الخلافة فابعثوا به إلى الخليفة من بعدي، فإني قد كنت أستحله، وقد (كنت) (٣) أصبت من (الودك) (٤) نحوا مما كنت أصبت من التجارة، قالت عائشة: فلما مات نظرنا، فإذا عبدٌ نوبي يحمل صبيانه، وناضح كان (يسنى) (٥) عليه قالت: فبعثنا بهما إلى عمر، قالت: فأخبرني (جريي) (٦) أن عمر بكى وقال: رحمة اللَّه على أبي بكر! لقد أتعب من بعده تعبا شديدا (٧).حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا مرض الوفات قریب آیا ، آپ نے فرمایا : میرے مال میں دیکھو خلافت میں آ نے کے بعد اس میں کتنا اضافہ ہوا ہے، اور وہ میرے بعد والے خلیفہ کو بھیج دو ، بیشک میں اس کو حلال سمجھتا تھا، جتنا مال میں نے تجارت میں کمایا ہے تقریباً اتنی ہی مالیت کے جانور بھی میرے پاس موجود ہیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب ہم نے دیکھا تو ایک نوبی غلام (یعنی جس کی آنکھیں درست نہ ہوں اور وہ ٹھیک سے دیکھ بھی نہ سکتا ہو) تھا۔ جس نے اپنے بچے اٹھائے ہوئے تھے اور ایک اونٹنی تھی جس پر پانی لایا کرتے تھے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم نے یہ سب عمر رضی اللہ عنہ کی طرف بھیج دیا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ مجھے میرے دادا نے بتایا کہ عمر رضی اللہ عنہ رو پڑے اور فرمایا کہ ابوبکر پر اللہ رحم فرمائے انہوں نے اپنے بعد میں آنے والوں کو مشقت میں ڈال دیا ہے۔