مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
إنظار المعسر والرفق به باب: تنگ دست کو مہلت دینا اور اُس کے ساتھ نرمی کرنا
حدیث نمبر: 23605
٢٣٦٠٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن عبد الملك بن عمير عن ربعي قال: قال عقبة بن عمرو لحذيفة: حدثني بشيء سمعته من رسول اللَّه ﷺ (قال) (١): (سمعت رسول اللَّه ﷺ) (٢) يقول: "كان (٣) فيمن كان قبلكم (رجل) (٤) أتاه الملك ليقبض روحه فقال: هل (عملت) (٥) خيرًا؟ قال: ما أعلمه، قال: انظر، قال: ما أعلمه، إلا أني كنت رجلا (أجازف) (٦) الناس وأخالطهم، فكنت أنظر المعسر وأتجاوز عن (الموسر) (٧) فأدخله اللَّه الجنة" قال عقبة: وأنا سمعته يقول ذلك (٨).مولانا محمد اویس سرور
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم سے پہلے ایک شخص تھا، فرشتہ اس کی روح قبض کرنے آیا ، اور اس سے پوچھا کہ کیا تیرا کوئی نیک عمل ہے ؟ اس نے کہا کہ میں نہیں جانتا، اس نے کہا غور کر، اُ س شخص نے کہا اس کے علاوہ مجھے نہیں معلوم کہ میں بیع میں لوگوں کو مہلت دیتا تھا، پس میں تنگ دست کو مہلت دیتا اور امیر سے تجاوز کرتا، پس اللہ تعالیٰ نے اس کو جنت میں داخل فرما دیا۔
حواشی
(١) في [ز]: (فقال).
(٢) في [أ، ح، هـ]: (سمعته).
(٣) في [أ، هـ]: زيادة (رجل).
(٤) سقط من [هـ]: (رجل).
(٥) في [أ، ح، ط]: (علمت).
(٦) في [ح، ط]: (جازف).
(٧) في [ط]: (المعسر).