حدیث نمبر: 23601
٢٣٦٠١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن عمرو قال: سمعت (عبيد بن عمير) (١) قال: كان رجل يداين الناس ويبايعهم، وكان له كاتب ⦗٢٨٢⦘ و (متجازٍ) (٢) فيأتيه المعسر والمستنظر فيقول (له) (٣): كل وانظر وتجاوز اليوم، يتجاوز عنا، قال: فلقي اللَّه ولم يعمل خيرا غيره فغفر له.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبید بن عمیر رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ایک شخص تھا جو لوگوں کو قرضہ دیتا اور ان کے ساتھ بیع کرتا تھا، اس کا ایک کاتب اور ایک قرضہ وصول کرنے والا تھا، اس کے پاس جب کوئی تنگ دست آتا تو اپنے کاتب سے کہتا کہ تول کر دے دو اور کچھ مہلت بھی دے دو ۔ آج کے دن درگذر کرو۔ اس کے بدلہ میں اللہ ہم سے درگذر کرے گا۔ وہ شخص اللہ سے اس حالت میں ملا کہ اس عمل کے علاوہ اس نے کوئی بھی اچھا عمل نہیں کیا تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس کی مغفرت کردی۔

حواشی
(١) في [ح، هـ]: (عمر بن عمر).
(٢) في [هـ]: (متجاري)، وفي [أ، ح، ط]: (متجازي)، والمتجازي: الوكيل في المطالبة بسداد الدين.
(٣) سقط من: [جـ، ح، ط].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23601
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23601، ترقيم محمد عوامة 22610)