٢٣٥٦٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا الأعمش عن (شقيق) (١) عن عبد اللَّه قال: قال النبي ﷺ: (من حلف على يمين (صبر) (٢) ليقتطع بها مال امرئ مسلم (و) (٣) هو فيها فاجر، لقي اللَّه وهو عليه (غضبان)، قال: فدخل الأشعث ابن قيس فقال: ما يحدثكم أبو عبد الرحمن قلنا: كذا وكذا، قال: صدق! ⦗٢٧٣⦘ فيّ واللَّه نزلت، كان بيني وبين رجل من اليهود خصومة، فخاصمته إلى النبي ﷺ فقال: "ألك بينة؟ " قلت: لا، قال: "فلك يمينه"، (فقلت) (٤): إذن يحلف! فقال النبي ﷺ: "من حلف على يمين صبر" -فذكر مثل قول عبد اللَّه- فنزلت هذه الآية: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا﴾ (٥).حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص اس لیے قسم اٹھائے تاکہ کسی مسلمان کا مال ہتھیا سکے اور وہ اپنی قسم میں جھوٹا ہو تو وہ شخص اس حال میں اللہ کے دربار میں حاضر ہوگا کہ اللہ تعالیٰ اس پر غضب ناک ہوں گے۔ حضرت اشعث بن قیس آئے اور دریافت کیا کہ ابو عبد الرحمن نے تم سامنے کیا بیان کیا ہے ؟ ہم نے عرض کیا کہ یہ یہ، فرمایا کہ انہوں نے سچ فرمایا ہے، خدا کی قسم میرے متعلق اللہ کا ارشاد بھی نازل ہوا ہے۔ میرے اور ایک یہودی کے بیچ جھگڑا تھا، ہم اپنا جھگڑا حضور ﷺ کی خدمت میں لے کر حاضر ہوئے، آپ نے دریافت فرمایا کہ تمہارے گواہ ہیں ؟ میں نے عرض کیا نہیں، آپ نے فرمایا : پھر اس کو قسم اٹھانا پڑے گی، میں نے عرض کیا کہ تب تو یہ قسم اٹھا لے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص جھوٹی قسم اٹھائے گا، پھر آپ نے حضرت عبد اللہ کی روایت کے متعلق بیان فرمایا۔ پھر یہ آیات نازل ہوئی۔ {إنَّ الَّذِینَ یَشْتَرُونَ بِعَہْدِ اللہِ وَأَیْمَانِہِمْ ثَمَنًا قَلِیلاً }۔