مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
الشراء بالعرض الإبل ونحوها باب: سامان کے بدلے میں اونٹ وغیرہ خریدنا
حدیث نمبر: 23525
٢٣٥٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا يونس ابن أبي إسحاق عن مجاهد قال: (اشترى) (١) مهرًا من أعرابي بمائة صاع من تمر، فقال النبي ﷺ (للرجل) (٢): "انطلق فقل (لهم) (٣): يأكلوا حتى يشبعوا، و (يكتالوا) (٤) حتى "يستوفوا" (٥)، -يعني الكيل-، فخرج الرجل وهو (يحك) (٦) (بمرفقيه) (٧) -يعني يشتد (٨) (٩).مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اعرابی سے سو صاع کھجور کے بدلے ایک بچھڑا خریدا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے فرمایا : لوگوں سے جا کر کہہ دو کہ پیٹ بھر کر کھاؤ اور جب تک وزن پورا نہ ہوجائے کیل کرتے رہو (یعنی کوئی چیز دینی ہو تو مکمل وزن کر کے دیا کرو) وہ شخص اس حال میں نکلا کہ اس نے کہنیوں کو ملایا ہوا تھا۔
حواشی
(١) في [ز]: (اشتر).
(٢) في [ط]: (الرجل).
(٣) سقط من [جـ].
(٤) في [أ، جـ، ح، ز، ط]: (يكتالون).
(٥) في [أ، ح، ط]: (يستوفون).
(٦) في [ح، ز]: (يحتك)، وفي [أ]: (يحيك).
(٧) في [ط]: (فقيه)، وفي [ز]: (يمرفقه).
(٨) في [ط]: (يشقد).