حدیث نمبر: 23505
٢٣٥٠٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا إسماعيل بن أبي خالد عن أبيه قال:] (١) كان لي على الحسن بن علي دين، فأتيته أتقاضاه، فوجدته قد خرج من الحمام وقد أثر الحناء بأظافره و (جارية له) (٢) تحك عنه الحناء بقارورة، فدعا (بقعب) (٣) فيه (دراهم) (٤) فقال: خذ هذا، فقلت: هذا أكثر من حقي، (قال) (٥): خذه، فأخذته فوجدته يزيد على حقي بستين أو سبعين درهمًا (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت خالد فرماتے ہیں کہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے ذمہ میرا قرض تھا، میں ان کے پاس وصول کرنے آیا وہ اس وقت حمام سے نکل رہے تھے، اور مہندی کے اثرات ان کے ناخونوں پر تھے، اور ان کی باندی بوتل سے ان کی مہندی کو صاف ( کھرچ ) کر رہی تھی۔ آپ نے برتن نما تھیلی منگوائی جس میں درہم تھے، اور مجھ سے فرمایا یہ لے لو، میں نے عرض کیا کہ یہ تو میرے حق سے زیادہ ہے، آپ نے فرمایا رکھ لو، میں نے وہ رکھ لئے اور اس میں میں نے اپنے حق سے ساٹھ یا ستر دراہم زائد پائے۔

حواشی
(١) سقط ما بين المعكوفين من: [أ، ح، ط، هـ].
(٢) في [هـ]: (جاربته).
(٣) في [أ، ط]: (بعتب)، وفي [هـ]: (بعيب)، والقعب: إناء ضخم.
(٤) في [أ، ح، هـ]: (درهم).
(٥) في [ح]: (فقال).
(٦) مجهول؛ لجهالة أبي خالد البجلي الأحمسي.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23505
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23505، ترقيم محمد عوامة 22527)