حدیث نمبر: 23498
٢٣٤٩٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد السلام عن يونس عن زياد بن جبير عن سعد قال: لما بايع النبي ﷺ النساء (قامت) (١) إليه امرأة جليلة كأنها من نساء (مضر) (٢) فقالت: يا رسول اللَّه إنا كَلٌّ على (آبائنا) (٣) وأزواجنا وأبنائنا، فما يحل لنا من أموالهم؛ قال: "الرَّطْب تأكلينه وتهدينه" (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت سعد سے مروی ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین سے بیعت لی تو ایک خاتون کھڑی ہوئی گویا کہ وہ مضر میں سے تھی، عرض کی اے اللہ کے رسول ﷺ! سب کچھ ہمارے والدین، شوہروں اور بیٹوں کے لئے ہے، ان اموال میں سے ہمارے لئے کیا حلال ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہر وہ تر چیز ( جس کو ذخیرہ نہیں کرسکتے ) اس کو کھاؤ بھی اور ہدیہ بھی کرو۔

حواشی
(١) في [هـ]: (فأتت).
(٢) في [ح]: (مصر).
(٣) في [ح]: (أبينا).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23498
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أبو داود (١٦٨٦)، والحاكم (٤/ ١٣٤)، وعبد بن حميد (١٤٧)، والبيهقي ٤/ ١٩٢، وابن سعد ٨/ ١٠، والبزار (١٢٤١)، والضياء في المختارة (٩٤٩)، وابن أبي الدنيا في العيال (٥١٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23498، ترقيم محمد عوامة 22520)