مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
من كره أن يأكل ربح ما لم يضمن باب: جو حضرات ربح مالم یضمن کے تناول کرنے کو ناپسند کرتے ہیں یعنی ایسے سامان کو فروخت کرنا جو اس نے خریدا تو ہو لیکن اُس پر قبضہ نہ کیا ہو تو ایسی بیع درست نہیں ہے اور ایسا نفع حلال نہیں ہے
حدیث نمبر: 23443
٢٣٤٤٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن داود بن أبي هند عن عمرو ابن شعيب أن جده كان إذا بعث تجارة نهاهم عن: سلف وبيع، وعن شرطين في بيع وعن ربح ما لم يضمنوا (١).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن شعیب سے مروی ہے کہ ان کے دادا جب تجارت کا سامان بھیجتے تو ان کو منع کرتے بیع اور قرض سے، ایک بیع میں دو شرطیں لگانے سے، اور اس شے کے نفع کو استعمال کرنے سے جس کے نقصان کا بھی وہ ضامن نہ ہو یعنی جب تک نفع و نقصان دونوں میں شرکت نہ ہو تو نفع بھی استعمال نہیں کرسکتے) سے۔
حواشی
(١) منقطع؛ عمرو بن شعيب لا يروي عن جده.