مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
من كره أن يأكل ربح ما لم يضمن باب: جو حضرات ربح مالم یضمن کے تناول کرنے کو ناپسند کرتے ہیں یعنی ایسے سامان کو فروخت کرنا جو اس نے خریدا تو ہو لیکن اُس پر قبضہ نہ کیا ہو تو ایسی بیع درست نہیں ہے اور ایسا نفع حلال نہیں ہے
حدیث نمبر: 23442
٢٣٤٤٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن حجاج عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال: بعث النبي ﷺ عتاب بن أسيد إلى أهل مكة فقال: " (تدري) (١) إلى أين بعثتك؟ بعثتك إلى أهل اللَّه"، ثم قال: "إنههم عن أربع: عن بيع وسلف، وعن شرطين في بيع، وعن ربح ما لم يضمن، وعن بيع ما ليس عندك" (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن شعیب سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ کو مکہ والوں کی طرف بھیجا اور فرمایا : تمہیں معلوم ہے میں نے تمہیں کہاں بھیجا ہے ؟ میں نے تمہیں اللہ والوں کے پاس بھیجا ہے، پھر فرمایا ان کو چار چیزوں سے منع کرنا ، بیع اور قرض سے، ایک بیع میں دو شرطیں لگانے سے ، اور اس شے کے نفع کو استعمال کرنے سے جس کے نقصان کا بھی وہ ضامن نہ ہو یعنی جب تک نفع و نقصان دونوں میں شرکت نہ ہو تو نفع بھی استعمال نہیں کرسکتے) سے اور اس چیز کی بیع سے جو پاس نہ ہو۔
حواشی
(١) في [ز]: (أتدري).
(٢) منقطع حكمًا؛ حجاج مدلس عنعن، وقد تويع، أخرجه الفاكهي (١٨٠١)، كما أخرجه أحمد (٦٦٢٨)، وأبو داود (٣٤٩٨)، والترمذي (١٢٣٤)، والنسائي ٧/ ٢٩٥، وابن ماجه (٢١٨٨)، والحاكم ٢/ ١٧، وابن حبان (٤٣٢١)، وعبد الرزاق (١٤٢١٥)، والدارمي (٢٥٦٠)، والطحاوي ٤/ ٤٦، والدارقطني ٣/ ٧٤، والبيهقي ٥/ ٣٤٠.