٢٣٤٠٤ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا وكيع) (١) حدثنا زكريا عن عامر قال: سمعت النعمان بن بشير يخطب و (أهوى) (٢) بإصبعه إلى أذنيه يقول: سمعت النبي ﷺ يقول: "الحلال بين والحرام بين، وبينهما أمور (مشتبهات) (٣) فمن اتقى الشبهات (استبرأ) (٤) لدينه (وعرضه) (٥)، ومن وقع في (الشبهات) (٦) وقع في الحرام كالراعي يرعى حول الحمى يوشك أن يرتع فيه، ألا إن لكل ملك حمى، وإن (حمى) (٧) اللَّه محارمه، ألا وإن في الجسد مضغة إذا صلحت صلح الجسد كله، وإذا فسدت فسد الجسد كله، ألا وهي القلب" (٨).حضرت عامر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کو خطبہ دیتے ہوئے سنا اس حال میں کہ انہوں نے اپنی انگلیاں کانوں میں داخل کی ہوئیں تھیں، فرمایا میں نے نبی اکرم ﷺ سے ( ان کانوں سے خود ) سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے اور ان کے درمیان کچھ چیزیں مشتبہ ہیں، جو شخص مشتبہات سے بچ گیا اس نے اپنے دین اور عزت کو صاف اور بری کردیا۔ اور جو شخص مشتبہات میں پڑا وہ حرام میں پڑا، جیسے چرواہا اگر چراگاہ کے ارد گرد جانوروں کو چرائے تو وہ کبھی نہ کبھی چراگاہ میں داخل ہوجائیں گے۔ خبردار ہر بادشاہ کی ایک چراگاہ ہوتی ہے، اور اللہ کی چراگاہ اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں، خبردار جسم میں ایک ٹکڑا ہے اگر وہ ٹھیک ہوجائے تو سارا جسم ٹھیک ہوجاتا ہے، اور اگر وہ خراب ہوجائے تو سارا جسم خراب ہوجاتا ہے، سنو وہ انسان کا دل ہے۔