حدیث نمبر: 23376
٢٣٣٧٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن نمير قال: حدثنا هشام بن سعد عن زيد ابن أسلم عن أبيه قال: سمعت عمر بن الخطاب يقول: أرسل إليّ النبي ﷺ (بمال) (١) فرددته، فلما جئته به (قال) (٢): "ما حملك (على) (٣) أن ترد ما أرسلت به اليك؟ " قال: قلت (لي) (٤) يا رسول (اللَّه) (٥) (٦) أن خيرًا لك (ألا) (٧) تأخذ من الناس، قال: "إنما ذاك أن تسأل الناس، وما جاءك من غير مسألة فإنما (هو) (٨) ⦗٢٢١⦘ رزق (رزقكه) (٩) اللَّه" (١٠).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لئے کچھ مال بھیجا جو میں نے واپس کردیا۔ پھر جب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا : جو مال میں نے تمہارے طرف بھیجا تھا اس کو واپس کرنے پر کس چیز نے تمہیں ابھارا ؟ میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تھا : تمہارے لئے یہی بہتر ہے کہ تم لوگوں سے کچھ مت لینا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ اس وقت ہے جب تم خود لوگوں سے سوال کرو۔ جو تمہارے پاس بغیر سوال کے آئے وہ اللہ کا عطاء کردہ رزق ہے جو اللہ تمہیں عطا فرما رہا ہے۔

حواشی
(١) سقط من: [أ، ح، هـ].
(٢) في [أ، ح، ز، ط]: (فقال).
(٣) سقط من: [أ، هـ].
(٤) سقط من: [أ، ح، ط، هـ].
(٥) سقط من: [ز].
(٦) في [ح]: زيادة ﷺ، وفي [هـ]: زيادة (أليس قد أخبرتنا).
(٧) في [ح، ط]: (لا)، وفي [ج، ز]: (أن لا).
(٨) في [جـ، ز]: زيادة (هو).
(٩) في [ط، هـ]: (رزقه)، وفي [جـ]: (رزقاه).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23376
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ هشام بن سعد صدوق، أخرجه ابن خزيمة (٢٣٦٧)، والبزار (٢٧١)، وعبد بن حميد (٤٢)، وأبو يعلى (١٦٧)، والبيهقي (٦/ ١٨٤)، والبخاري في التاريخ (٨/ ٣٥٤)، وابن عبد البر في التمهيد (٥/ ٨٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23376، ترقيم محمد عوامة 22407)