مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في الرجل يهدي إلى الرجل، أو يبعث إليه باب: کوئی شخص کسی کو ہدیہ دے یا اُس کی طرف ہدیہ بھیجے
٢٣٣٧٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن نمير قال: حدثنا هشام بن سعد عن زيد ابن أسلم عن أبيه قال: سمعت عمر بن الخطاب يقول: أرسل إليّ النبي ﷺ (بمال) (١) فرددته، فلما جئته به (قال) (٢): "ما حملك (على) (٣) أن ترد ما أرسلت به اليك؟ " قال: قلت (لي) (٤) يا رسول (اللَّه) (٥) (٦) أن خيرًا لك (ألا) (٧) تأخذ من الناس، قال: "إنما ذاك أن تسأل الناس، وما جاءك من غير مسألة فإنما (هو) (٨) ⦗٢٢١⦘ رزق (رزقكه) (٩) اللَّه" (١٠).حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لئے کچھ مال بھیجا جو میں نے واپس کردیا۔ پھر جب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا : جو مال میں نے تمہارے طرف بھیجا تھا اس کو واپس کرنے پر کس چیز نے تمہیں ابھارا ؟ میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تھا : تمہارے لئے یہی بہتر ہے کہ تم لوگوں سے کچھ مت لینا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ اس وقت ہے جب تم خود لوگوں سے سوال کرو۔ جو تمہارے پاس بغیر سوال کے آئے وہ اللہ کا عطاء کردہ رزق ہے جو اللہ تمہیں عطا فرما رہا ہے۔