مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في الرجل يهدي إلى الرجل، أو يبعث إليه باب: کوئی شخص کسی کو ہدیہ دے یا اُس کی طرف ہدیہ بھیجے
٢٣٣٧٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (زيد) (١) بن الحباب عن (حسين) (٢) ابن واقد قال: حدثني عبد اللَّه بن بريدة عن أبيه أن سلمان لما أتى المدينة أتى النبي ﷺ بهدية على طبق فوضعها بين يديه فقال: "ما هذا؟ " قال: صدقة عليك وعلى أصحابك، (قال) (٣): "إني لا آكل الصدقة"، فرفعها ثم أتاه من الغد بمثلها فقال: "ما هذا؟ " فقال: هدية لك (٤)، فقال رسول اللَّه ﷺ لأصحابه: "كلوا" (٥).حضرت بریدہ سے مروی ہے کہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ جب مدینہ حاضر ہوئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک پلیٹ میں ہدیہ لے کر حاضر ہوئے، اس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا یہ کیا ہے ؟ حضرت سلمان نے فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب پر صدقہ ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں صدقہ نہیں کھاتا۔ انہوں نے وہ ہدیہ اٹھوا دیا (یعنی واپس کردیا) پھر اگلے دن اسی طرح لے کر آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا یہ کیا ہے ؟ حضرت سلمان نے فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ہدیہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کھاؤ۔