حدیث نمبر: 23371
٢٣٣٧١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو بكر بن عياش عن يحيى بن هانئ قال: أخبرني أبو حذيفة عن عبد الملك بن محمد عن عبد الرحمن بن علقمة قال: قدم على النبي ﷺ وفد ثقيف فأهدوا إليه هدية، فقال: "هدية أم صدقة؟ " (قالوا) (١): هدية، (قال) (٢): "إن الهدية يطلب بها وجه الرسول وقضاء الحاجة، وإن الصدقة يبتغى بها وجه اللَّه"، قالوا: لا، بل هدية فقبلها منهم، وشغلوه عن الظهر (حتى صلاها مع) (٣) العصر (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبد الرحمن بن علقمہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ حضور اکرم ﷺ کی خدمت میں ثقیف کا وفد حاضر ہوا۔ انہوں نے کچھ ہدیہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا یہ ہدیہ ہے یا صدقہ ؟ انہوں نے عرض کیا ہدیہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بیشک ہدیہ سے اللہ کے رسول کی خوشنودی طلب کی جاتی ہے اور حاجت پوری کی جاتی ہے۔ اور صدقہ سے اللہ کی خوشنودی طلب کی جاتی ہے۔ انہوں نے عرض کیا نہیں یہ ہدیہ ہی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے قبول فرما لیا۔ اور انہوں نے حضور کو ظہر کے تمام وقت مشغول رکھا (یعنی پاس بیٹھے رہے) یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کو عصر کے ساتھ پڑھا۔

حواشی
(١) في [ز]: (فقالوا).
(٢) في [هـ]: (قالوا)، وفي [ز]: (فقال).
(٣) في [أ، ب، ح، ط، هـ]: (و).
(٤) مجهول؛ أبو حذيفة وعبد الملك بن محمد مجهولان، أخرجه النسائي ٦/ ٢٧٩، والبخاري في التاريخ ٥/ ٢٥٠، وابن قانع ٢/ ١٥٧، وابن الأثير ٣/ ٥١٠، والمزي ١٨/ ٤٠٠، والطيالسي (١٣٣٧)، وأبو عبيد في الأموال (١٧٧٠).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23371
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23371، ترقيم محمد عوامة 22402)