مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في الرجل يهدي إلى الرجل، أو يبعث إليه باب: کوئی شخص کسی کو ہدیہ دے یا اُس کی طرف ہدیہ بھیجے
٢٣٣٧١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو بكر بن عياش عن يحيى بن هانئ قال: أخبرني أبو حذيفة عن عبد الملك بن محمد عن عبد الرحمن بن علقمة قال: قدم على النبي ﷺ وفد ثقيف فأهدوا إليه هدية، فقال: "هدية أم صدقة؟ " (قالوا) (١): هدية، (قال) (٢): "إن الهدية يطلب بها وجه الرسول وقضاء الحاجة، وإن الصدقة يبتغى بها وجه اللَّه"، قالوا: لا، بل هدية فقبلها منهم، وشغلوه عن الظهر (حتى صلاها مع) (٣) العصر (٤).حضرت عبد الرحمن بن علقمہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ حضور اکرم ﷺ کی خدمت میں ثقیف کا وفد حاضر ہوا۔ انہوں نے کچھ ہدیہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا یہ ہدیہ ہے یا صدقہ ؟ انہوں نے عرض کیا ہدیہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بیشک ہدیہ سے اللہ کے رسول کی خوشنودی طلب کی جاتی ہے اور حاجت پوری کی جاتی ہے۔ اور صدقہ سے اللہ کی خوشنودی طلب کی جاتی ہے۔ انہوں نے عرض کیا نہیں یہ ہدیہ ہی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے قبول فرما لیا۔ اور انہوں نے حضور کو ظہر کے تمام وقت مشغول رکھا (یعنی پاس بیٹھے رہے) یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کو عصر کے ساتھ پڑھا۔