حدیث نمبر: 23365
٢٣٣٦٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سعيد بن عبيد الطائي عن علي بن ربيعة، (أن عليا) (١) استعمل رجلا من بني أسد يقال له: ضبيعة بن ⦗٢١٧⦘ زهير أو زهير بن ضبيعة، فلما جاء قال: يا أمير المؤمنين إني أهدي إلي في عملي أشياء وقد أتيتك بها، فإن كانت حلالا أكلتها وإلا فقد أتيتك بها، فقبضها علي وقال: لو حبستها كان غلولًا (٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت علی رضی اللہ عنہابن ربیعہ سے مروی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بنو اسد میں سے ایک شخص کو عامل بنایا۔ جس کا نام ضبیعہ بن زہیر یا زہیر بن ضبیعہ تھا، جب وہ واپس آیا تو کہا : اے امیر المؤمنین ! مجھے کافی ہدیے دئیے گئے۔ میں وہ سب آپ کے پاس لے کر حاضر ہوا ہوں۔ اگر تو وہ میرے لئے حلال ہیں تو میں اس سے کھا لوں ۔ وگرنہ میں وہ آپ کو دے دیتا ہوں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس سے لے لئے اور فرمایا : اگر تو ان کو اپنے پاس رکھتا تو یہ خیانت ہوتی۔

حواشی
(١) سقط في: [أ، ح، ز، ط)، وفي [جـ]: (أن رجلًا).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23365
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23365، ترقيم محمد عوامة 22396)