حدیث نمبر: 23364
٢٣٣٦٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا إسماعيل بن أبي خالد عن قيس (عن) (١) عدي (بن) (٢) عميرة الكندي قال: سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "من استعملناه منكم (على عمل) (٣) فكتمنا مخيطا (فما فوقه) (٤) كان غلولًا يأتي به يوم القيامة"، فقام إليه رجل (أسود) (٥) من الأنصار كأني أنظر إليه فقال: يا (رسول) (٦) اللَّه أقبل عني عملك قال: (وما ذاك؟ " قال: سمعتك (تقول) (٧) كذا وكذا قال: "فأنا أقول الآن: من استعملناه منكم على عمل فليأتنا بقليله وكثيره، فما أوتي منه أخذ، وما نهي عنه انتهى" (٨).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عدی بن عمیرہ الکندی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : تم میں سے کسی کو کسی کام پر عامل مقرر کیا جائے پھر وہ اس میں سے سوئی یا اس سے زائد کچھ چھپالے۔ تو یہ خیانت ہے جو بروز قیامت سامنے لائی جائے گی۔ انصار میں سے ایک سیاہ شخص اس حال میں کھڑا ہوا گویا کہ میں اس کو دیکھ رہا تھا۔ اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ نے جو کام مجھے سونپا تھا اس کو واپس لے لیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا وہ کیا ہے ؟ اس نے عرض کیا میں نے آپ کو سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے اس طرح اس طرح۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں اب اس کو پھر کہتا ہوں۔ تم میں سے کسی کو کسی کام پر عامل مقرر کردیا جائے اس کو چاہیے کہ اس کے تھوڑے اور زائد کو ہمارے پاس لائے۔ جو اس میں سے دیا جائے اس کو لے لے اور جس سے روکا جائے اس سے منع ہوجائے۔

حواشی
(١) في [أ، ح، ط]: (ابن).
(٢) في [أ، جـ، ح، ز، ط]: (عن).
(٣) سقط من: [ط].
(٤) سقط من: [ع].
(٥) سقط من: [أ، ح، ط، هـ].
(٦) في [جـ، ز]: (برسول).
(٧) سقط من: [أ، ح، هـ].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23364
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (١٨٣٣)، وأحمد (١٧٧١٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23364، ترقيم محمد عوامة 22395)