مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في الوالي والقاضي يهدى إليه باب: قاضی اور والی کا ہدیہ وصول کرنا
٢٣٣٦٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا هشام بن عروة عن أبيه عن أبي حميد الساعدي أن النبي ﷺ استعمل (ابن) (١) (اللتبية) (٢) على صدقات بني سليم، فلما جاء قال: هذا لكم، وهذا أهدي لي، فقام النبي ﷺ فخطب الناس فحمد اللَّه وأثنى عليه ثم قال: "ما بال (٣) رجال نوليهم أمورًا مما (ولانا) (٤) ⦗٢١٦⦘ (اللَّه) (٥) فيجيء (أحدكم) (٦) فيقول: هذا لكم وهذا أهدي إلي، أفلا يجلس في بيت أبيه أو بيت أمه حتى تأتيه هدية إن كان صادقًا" (٧).حضرت ابو حمید الساعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن اللتبیہ کو بنی سلیم کے صدقات پر عامل بنایا۔ جب وہ آئے تو کہا یہ تمہارے لئے ہے اور یہ میرے لیئے ہدیہ ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور لوگوں کو خطبہ دیا اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء فرمائی اور پھر فرمایا : لوگوں کو کیا ہوگیا ان کو کسی کام کا والی (نگران) بنایا جاتا ہے ان امور میں سے جن کا اللہ نے ہمیں بنایا ہے۔ پھر ان میں سے ایک شخص یہ کہتا ہوا آتا ہے کہ : یہ تمہارے لئے ہے اور یہ میرے لئے ہدیہ ہے۔ اگر وہ سچا ہے تو اپنے باپ یا ماں کے گھر کیوں نہیں بیٹھ جاتا تاکہ یہ ہدیہ اس کے پاس وہیں آجائے ؟