حدیث نمبر: 23331
٢٣٣٣١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن (ابن) (١) شبرمة عن الشعبي] (٢) قال: سألته عن رجل كان له على رجل (مال) (٣)، فأشهد (٤) شاهدين فاستقضى أحد الشاهدين، فقال الشعبي: جاء رجل إلى شريح يخاصم وأنا جالس (معه) (٥)، فجاء الآخر عليه بشاهد، ثم قال لشريح: أنت تشهد لي، فقال شريح: أئت (الأمير) (٦) حتى أشهد لك.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت شعبی رحمہ اللہ سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص کا مال دوسرے کے ذمہ تھا۔ اس نے دو گواہ پیش کر دئیے۔ پھر دو گواہوں میں سے ایک سے فیصلہ کروانا چاہا ؟ پھر دوسرا شخص آیا اس کے ساتھ ایک گواہ تھا، اس نے حضرت شریح رحمہ اللہ سے کہا : آپ میرے حق میں گواہی دیں، حضرت ت شریح رحمہ اللہ نے فرمایا : امیر کو بلا کر لاؤ ۔ تاکہ میں گواہی دے سکوں (یعنی پھر میں قاضی یا فیصل نہیں بنوں گا)

حواشی
(١) سقط من: [أ، ح، ط].
(٢) سقط ما بين المعكوفين من: [جـ].
(٣) في [أ، ح، ز، ط]: (مالًا).
(٤) في [جـ، ز]: زيادة (عليه).
(٥) سقط من: [ط].
(٦) في [ط]: (الأمر).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23331
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23331، ترقيم محمد عوامة 22364)