مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأذان والإقامة
كم يكون مؤذن (واحد) أو (اثنان) باب: مؤذن کتنے ہونے چاہئیں ایک یا دو ؟
حدیث نمبر: 2331
٢٣٣١ - حدثنا ابن إدريس عن محمد بن إسحاق عن (الزهري عن السائب بن يزيد) (١) ابن أخت نمر قال: ما كان لرسول اللَّه ﷺ إلا يؤذن واحد يؤذن إذا قعد على المنبر، ويقيم إذا نزل، ثم أبو بكر كذلك، ثم عمر (كذلك) (٢) حتى كان عثمان وفشى الناس وكثروا زاد النداء الثالث عند الزوال أو (الزوراء) (٣) (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت سائب بن یزید کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صرف ایک مؤذن تھے جو اس وقت اذان کہتے جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر بیٹھتے اور اس وقت اقامت کہتے جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر سے اترتے۔ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کا بھی یہی معاملہ تھا۔ جب حضرت عثمان کا زمانہ آیا تو لوگ زیادہ ہوگئے اور ادھر ادھر پھیل گئے لہٰذا انہوں نے زوال کے وقت تیسری اذان کا اضافہ کردیا۔
حواشی
(١) سقط ما بين القوسين في [د].
(٢) سقط من: [ب].
(٣) في [جـ]: (الزوال).