مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في المواصفة في البيع باب: غیر موجود چیز کی صرف صفت اور کیفیت بیان کرکے فروخت کرنا
حدیث نمبر: 23303
٢٣٣٠٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن الحكم (ابن) (١) أبي (الفضل) (٢) قال: سمعت الحسن وسأله (رجل) (٣) عن الرجل يساوم الرجل (بالحرير) (٤) فيقول: ليس عندي، فيقول: (اشتره) (٥) حتى اشتريه منك، (قال) (٦): فكرهه وقال: هذه المواصفة.مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے دریافت کیا کہ ایک شخص دوسرے شخص کے ساتھ ریشم کا ریٹ لگاتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ ریشم میرے پاس نہیں ہے۔ اور وہ کہتا ہے : اس کو خرید لے یہاں تک کہ میں اس کو تجھ سے خرید لوں گا ؟ آپ نے اس بیع کو ناپسند فرمایا اور فرمایا یہ بیع مواصفہ ہے۔
حواشی
(١) في [أ، هـ]: (عن).
(٢) في [أ، ح، هـ]: (الفضيل).
(٣) سقط من: [أ، ط، هـ].
(٤) في [ع، هـ]: (بالحرية)، وفي [ط]: (بالحربة)، وتقدم الأثر ٦/ ١٣١ برقم [٢١٧٣٠] باب رقم [٥٥] في الرجل يساوم الرجل بالشيء فلا يكون عنده.
(٥) في [أ، ح، ز، ط]: (اشتريه).
(٦) زائدة في: [جـ].