مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في الإشهاد: يشهد رجلين أو أكثر باب: نوٹس دیتے وقت دو یا زیادہ لوگوں کو گواہ بنایا جائے گا
٢٣٢٣٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن (أبي) (١) الجراح قال: حدثني موسى بن سالم قال: لما (أجلى) (٢) الحجاج أهل الأرض أتتني امرأة بكتاب زعمت أن الذي (أعتق) (٣) أبوها: هذا ما اشترى طلحة بن عبيد اللَّه (من) (٤) فلان (ابن فلان) (٥)، اشترى منه فتاه دينار أو درهم؛ بخمسمائة درهم بالجيد والطيب والحسن، وقد دفع إليه الثمن (وأعتقه) (٦) لوجه اللَّه فليس لأحد عليه سبيل إلا سبيل الولاء، (شهد) (٧) الزبير بن العوام وعبد اللَّه بن عامر وزياد (٨).حضرت موسیٰ بن سالم رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ جب حجاج نے اہل علاقہ کو جلا وطن کیا، میرے پاس ایک خاتون مکتوب لے کر آئی ، اس کا خیال تھا کہ اس کا والد آزاد کیا گیا ہے۔ ( کہنے لگی ) یہ وہ ہے جس کو طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے فلان بن فلان سے خریدا، اس نے ایک نوجوان سے دینار یا درہم کے بدلے میں خریدا پانچ سو درہم کے بدلے میں جو جید، عمدہ اور اچھے تھے۔ اور اس کو ثمن بھی دے دیا، اور اس کو اللہ کے لئے آزاد کردیا، پھر کسی کے لئے کوئی راستہ نہیں ہے سوائے ولاء کے راستے کے۔ پس گواہی دی زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ ، عبد اللہ بن عامر اور زیاد نے۔