حدیث نمبر: 23232
٢٣٢٣٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن (أبي) (١) الجراح قال: حدثني موسى بن سالم قال: لما (أجلى) (٢) الحجاج أهل الأرض أتتني امرأة بكتاب زعمت أن الذي (أعتق) (٣) أبوها: هذا ما اشترى طلحة بن عبيد اللَّه (من) (٤) فلان (ابن فلان) (٥)، اشترى منه فتاه دينار أو درهم؛ بخمسمائة درهم بالجيد والطيب والحسن، وقد دفع إليه الثمن (وأعتقه) (٦) لوجه اللَّه فليس لأحد عليه سبيل إلا سبيل الولاء، (شهد) (٧) الزبير بن العوام وعبد اللَّه بن عامر وزياد (٨).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت موسیٰ بن سالم رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ جب حجاج نے اہل علاقہ کو جلا وطن کیا، میرے پاس ایک خاتون مکتوب لے کر آئی ، اس کا خیال تھا کہ اس کا والد آزاد کیا گیا ہے۔ ( کہنے لگی ) یہ وہ ہے جس کو طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے فلان بن فلان سے خریدا، اس نے ایک نوجوان سے دینار یا درہم کے بدلے میں خریدا پانچ سو درہم کے بدلے میں جو جید، عمدہ اور اچھے تھے۔ اور اس کو ثمن بھی دے دیا، اور اس کو اللہ کے لئے آزاد کردیا، پھر کسی کے لئے کوئی راستہ نہیں ہے سوائے ولاء کے راستے کے۔ پس گواہی دی زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ ، عبد اللہ بن عامر اور زیاد نے۔

حواشی
(١) في [ح]: (ابن).
(٢) في [جـ]: (أحل).
(٣) في [هـ]: (أعتقها).
(٤) في [ز]: (بن).
(٥) سقط من: [أ، ح، هـ].
(٦) في [هـ]: (فأعتقه فليس).
(٧) في [أ، ح، ط، هـ]: (فشهد).
(٨) مجهول؛ لجهالة المرأة ووالدها.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23232
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23232، ترقيم محمد عوامة 22271)