حدیث نمبر: 23182
٢٣١٨٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة وابن شبرمة قالا: اشترى عبد اللَّه غلاما (لامرأة) (١)، فلما ذهب به إلى منزله حم الغلام (فجاء ليرد الغلام) (٢) فخاصمه إلى الشعبي، فقال لعبد اللَّه: بينتك أنه دلس (للرد) (٣) عيبًا؟ فقال: ليس لي بينة، فقال (للرجل) (٤): احلف أنك لم تبعه (ذا) (٥) داء، فقال: الرجل إني أرد اليمين على عبد اللَّه، فقضى الشعبي باليمين عليه، فقال: إما أن تحلف وإلا جاز عليك الغلام.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت مغیرہ اور حضرت شبرمہ سے مروی ہے کہ حضرت عبد اللہ نے ایک غلام خریدا، جب اس کو لے کر مکان پر پہنچے تو غلام کو بخار ہوگیا، وہ غلام کو واپس کرنے کے لئے لے کر آئے، جھگڑا حضرت شعبی رحمہ اللہ کے پاس لے گئے، آپ رحمہ اللہ نے حضرت عبد اللہ سے فرمایا : اس پر گواہ پیش کرو کہ اس نے تیرے سے غلام کے عیب کو چھپایا ہے۔ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا میرے پاس گواہ نہیں ہیں، حضرت شعبی رحمہ اللہ نے دوسرے شخص سے فرمایا : آپ قسم اٹھاؤ کہ آپ نے غلام بیماری کی حالت میں فروخت نہیں کیا۔ اس شخص نے کہا کہ میں قسم کو عبد اللہ پر لٹاتا ہوں، حضرت شعبی رحمہ اللہ نے ان پر قسم اٹھانے کا فیصلہ فرمایا اور فرمایا : آپ قسم اٹھاؤ وگرنہ آپ پر غلام لازم ہوجائے گا۔

حواشی
(١) في [هـ]: (لامرئ).
(٢) في [هـ]: (في البرد).
(٣) في [هـ]: (عليك).
(٤) في [أ، ح، ز]: (الرجل).
(٥) زيادة من: [جـ، ز].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23182
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23182، ترقيم محمد عوامة 22227)