مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأذان والإقامة
من كان يقول: يجزنه أن يصلي بغير أذان ولا إقامة باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ گھر میں نماز پڑھنے والے کو اذان و اقامت کی ضرورت نہیں
حدیث نمبر: 2317
٢٣١٧ - حدثنا عبيد اللَّه (عن المنذر) (١) بن ثعلبة قال: سألت أبا (مجلز) (٢) فقلت: أنا في قرية تقام فيها الصلاة في جماعة، فإن صليت وحدي أؤذن (وأقيم) (٣)؟ قال: إن شئت كفاك أذان العامة، وإن شئت فأذن وأقم.مولانا محمد اویس سرور
منذر بن ثعلبہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو مجلز سے سوال کیا کہ اگر میں کسی ایسی بستی میں موجود ہوں جہاں جماعت سے نماز پڑھی جاتی ہے، پھر میں اگر اکیلے نماز پڑھوں تو کیا میں اذان اور اقامت کہوں گا ؟ فرمایا کہ اگر تم چاہو تو تمہارے لیے لوگوں کی اذان کافی ہے اور اگر چاہو تو اذان بھی دو اور اقامت بھی کہو۔
حواشی
(١) في [أ]: (ابن المنذر).
(٢) في [أ، ب، د، هـ]: (أبا مخلد).
(٣) في [أ]: (وأقم).