حدیث نمبر: 23099
٢٣٠٩٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون عن حجاج عن عبد الرحمن ابن الأسود عن أبيه قال: كان (١) غلام بيني وبين إخوتي فأردت أن ⦗١٥٥⦘ أعتقه، فأتيت ابن مسعود فذكرت ذلك له، فقال: لا (تفسد) (٢) على شركائك (فتضمن) (٣)، ولكن تربص حتى (يشبوا) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت اسود فرماتے ہیں کہ میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان ایک غلام مشترک تھا، میں نے اس کو آزاد کرنے کا ارادہ کیا، حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے ذکر کیا، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اپنے شریکوں کی شراکت میں فساد مت ڈال ورنہ تو ضامن ہوگا۔ تو ان کے بڑے ہونے کا انتظار کر۔

حواشی
(١) في [أ، ح، هـ]: زيادة (لي).
(٢) في [أ، ح، ط]: (نفسك).
(٣) في [أ، ح، ط]: (فيضمن).
(٤) في [ط]: (سلوا)، وفي [ش]: (ليسلوا)، وفي [ع]: (يستووا).
(٥) منقطع حكمًا؛ حجاج مدلس.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23099
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23099، ترقيم محمد عوامة 22151)