مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في الرجل يهب الهبة فيريد أن يرجع فيها باب: کوئی شخص ہبہ دینے کے بعد واپس لینے کا ارادہ کرے
حدیث نمبر: 23067
٢٣٠٦٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحمن بن مهدي عن معاوية (بن) (١) صالح عن ربيعة بن يزيد عن عبد اللَّه بن عامر قال: كنت (جالسًا) (٢) عند ⦗١٤٥⦘ فضالة (٣)، فأتاه رجلان يختصمان (٤) في باز، فقال أحدهما: وهبت له بازي رجاء أن يثيبني، وأخذ بازي ولم يثبني، فقال له الآخر: وهب لي (بازه) (٥)، ما سألته ولا تعرضت له، فقال فضالة (٦): رد عليه (بازه) (٧) أو أثبه (٨)، فإنما (يرجع) (٩) في المواهب (النساء) (١٠) (وشرار) (١١) الأقوام (١٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عامر فرماتے ہیں کہ میں حضرت فضالہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ دو آدمی ایک باز کے متعلق جھگڑتے ہوئے آئے، ان میں سے ایک نے کہا میں نے اس کو اس امید سے باز ہبہ کیا تھا کہ یہ مجھے عوض دے گا، اور اس نے باز لے لیا اور مجھے عوض نہ دیا، اور دوسرے نے کہا کہ اس نے ازخود باز ہبہ کیا ہے میں نے اس سے مانگا یا اصرار نہیں کیا۔ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا : اس کو باز واپس کردو یا اس کو عوض دو ، بیشک ہبوں میں رجوع کرنے والے عورتیں اور بُرے لوگ ہوتے ہیں۔
حواشی
(١) في [جـ]: (عن).
(٢) سقط في: [ز].
(٣) في [هـ]: زيادة (بن عبيد).
(٤) في [هـ]: زيادة (إليه).
(٥) في [هـ]: (بازيه).
(٦) في [هـ]: زيادة (بن عبيد).
(٧) في [هـ]: (بازيه).
(٨) في [هـ]: زيادة (منه).
(٩) في [أ، ح، ط]: (ترجع).
(١٠) في [أ، ح]: (للنساء).
(١١) في [ز]: (أشرار).