حدیث نمبر: 23022
٢٣٠٢٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا هشام بن سعد عن عمرو ابن شعيب عن أبيه عن جده أن رجلًا سأل النبي ﷺ عن ضالة المغنم فقال: "لك أو لأخيك أو للذئب"، وساله عن ضالة الإبل فقال: "ما تريد (إليها؟) (١) معها (سقاؤها وحذاؤها) (٢)، تأكل المرعى وترد الماء" (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گم شدہ بکری کے متعلق سوال کیا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یا وہ تیرے لئے ہے یا تیرے بھائی کے لئے یا پھر بھیڑیے کے لئے ہے۔ اُس نے گم شدہ اونٹ کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو اس سے کیا چاہتا ہے ۔ اس کے ساتھ پانی کا مشکیزہ اور نعل موجود ہے۔ چراگاہ سے کھائے گا اور پانی پر جائے گا۔

حواشی
(١) سقط من: [جـ].
(٢) في [أ، ح، ط]: (سقاها وحذاها).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23022
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ هشام وشعيب صدوقان، أخرجه أحمد (٦٦٨٣)، وأبو داود (١٧١٠)، وعبد الرزاق (٨٥٩٧)، والطحاوي ٤/ ١٣٥، والطبراني في الأوسط (٥٢٦)، والبيهقي ٤/ ١٥٢.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23022، ترقيم محمد عوامة 22078)