مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في اللقطة ما يصنع بها؟ باب: پڑی ہوئی کوئی چیز ملے تو اُس کا کیا کرے؟
٢٣٠٠٣ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا وكيع قال) (١): حدثنا سفيان عن سلمة ابن كهيل عن سويد بن غفلة قال: خرجت أنا و (زيد بن صوحان) (٢) وسلمان بن ربيعة حتى إذا كنا بالعذيب (٣) التقطت سوطًا، فقالا: لي ألقه، فأبيت فلما (أتيت) (٤) (المدينة) (٥) أتيت أبي بن كعب فسألته فقال: التقطت (مائة) (٦) دينار على عهد النبي ﷺ، فذكرت ذلك له فقال: عرفها سنة، فإن جاء صاحبها (فادفعها) (٧) إليه وإلا فاعرف عددها ووعاءها ووكاءها، ثم يكون كسبيل مالك (٨).حضرت سوید بن غفلہ سے مروی ہے کہ میں ، زید بن صوحان اور حضرت سلمان بن ربیعہ سفر پر نکلے یہاں تک کہ مقام عذیب پر جب پہنچے تو میں نے ایک کوڑا گرا ہوا اٹھا لیا، اُن دونوں نے مجھ سے کہا کہ اس کو پھینک دو ، لیکن میں نے انکار کردیا۔ جب میں مدینہ آیا تو میں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے اس کے متعلق سوال کیا ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سو دینار ملے تھے میں نے ان کو ذکر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ایک سال تک اس کی تشہیر کرو، اگر مالک آجائے تو اس کے حوالہ کردو ورنہ ان دیناروں کی تعداد اور تھیلی، برتن وغیرہ کی اچھی طرح پہچان کرلو۔ پھر تو اس رقم کے مالک کے راستہ کی مانند ہے (یعنی پہلے وہ اس رقم کو راستہ سے اٹھا لیتا لیکن اب وہ تیرے سے لے گا) ۔