حدیث نمبر: 23001
٢٣٠٠١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع (قال: حدثنا) (١) الأسود بن (شيبان) (٢) عن أبي نوفل (بن) (٣) أبي عقرب عن أبيه قال: التقطت بدرة فأتيت بها عمر بن الخطاب فقلت: يا أمير المؤمنين (أغنها) (٤) عني، (فقال) (٥): واف بها (الموسم) (٦)، (فوافيت) (٧) بها الموسم (٨) فعرفتها، فلم أجد أحدا يعرفها (٩). فأغنها عني، فقال: إلا أخبرك بخير (سبلها) (١٠) تصدق بها، فإن جاء صاحبها فاختار المال غرمت له وكان الأجر لك، وإن اختار الأجر كان الأجر له ولك ما نويت (١١).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو عقرب رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ مجھے پیسوں کی ایک تھیلی ملی۔ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا اے امیر المؤمنین ! آپ میری طرف سے ان کی حفاظت کرنے کے لئے نائب بن جائیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ایام حج میں اعلان کرنا، میں نے ایام حج میں اعلان کیا۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ایک سال تک تشہیر کرو۔ میں نے تشہیر کی لیکن مالک کو نہ پایا، میں پھر آپ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ آپ میری طرف سے حفاظت کے لئے نائب بن جائیں، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا تجھے ایک بہتر راستہ بتلاؤں، ان کو صدقہ کر دے، اگر پھر مالک آجائے اور مال مانگے تو نقصان کا ذمہ دار ہے، اور صدقہ کا اجر تجھے ملے گا، اور اگر وہ اجر کا طالب ہو تو اجر اس کو ملے گا اور تجھے وہی ملے گا جس کی تو نیت کرے گا۔

حواشی
(١) في [ز]: (وكيع عن الأسود).
(٢) في [أ، جـ، ح، ز، ط]: (هلال)، وتقدم مثل هذا الإسناد باب الوصال من كتاب: الصيام برقم [٩٨٥٥]، وسيأتي في باب المرأة تزوج عبدها، من كتاب الحدود برقم [٣٠٦٧٩].
(٣) في [جـ]: (عن).
(٤) في [أ، ح، ط]: (أعنها).
(٥) في [ز]: (قال).
(٦) في [أ، ح، ط]: سقط.
(٧) في [أ، ح، ط، ز]: (فوفيت).
(٨) في [هـ]: زيادة (فقال: عرفها حولًا).
(٩) في [هـ]: زيادة (فأتيته فقلت).
(١٠) في [أ، ح]: (سبيلها)، وفي [ط]: (سبيل).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23001
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23001، ترقيم محمد عوامة 22057)