حدیث نمبر: 22996
٢٢٩٩٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا زيد بن حباب عن عبد الرحمن بن شريح قال: حدثني أبو قبيل عن عبد اللَّه بن عمرو أن رجلًا قال: التقطت دينارًا، (فقال) (١): لا يأوي الضالة إلا ضال، قال: فأهوى (به) (٢) الرجل ليرمي به (فقال) (٣): لا تفعل، قال: فما أصنع (به) (٤)؟ قال: تُعرِّفه، فإن جاء صاحبه فرده ⦗١٢٦⦘ إليه وإلا فتصدق به (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص کہنے لگا کہ مجھے ایک دینار ملا ہے۔ دوسرے شخص نے کہا کہ گم شدہ چیز کو گمراہ آدمی ہی ٹھکانہ دیتا ہے۔ وہ شخص اس کو مارنے کے لئے آگے بڑھا تو حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا ایسا مت کرو، اس نے دریافت کیا کہ پھر اس دینار کا کیا کروں ؟ آپ نے فرمایا اس کی تشہیر کرو، اگر مالک مل جائے تو اس کو لٹا دو ، وگرنہ اس کی طرف سے صدقہ کردو۔

حواشی
(١) في [أ، جـ، ح، ط]: (قال)، وفي [ز]: (قالا).
(٢) سقط من [ط].
(٣) في [ز]: (قال).
(٤) سقط من: [ز].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22996
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22996، ترقيم محمد عوامة 22052)