حدیث نمبر: 22995
٢٢٩٩٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة عن محمد بن إسحاق عن (عمرو) (١) بن شعيب عن أبيه عن جده قال: سمعت رجلًا من مرينة يسأل النبي ﷺ فقال: ما نجد في السبيل العامرة من اللقطة؟ فقال: (عرفها حولًا، فإن جاء صاحبها وإلا فهي لك) (٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے مزینہ کے ایک شخص کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرتے سنا کہ : جو پڑی ہوئی چیز ہمیں آباد (جہاں لوگوں کی آمد و رفت کثرت سے ہو) راستے میں ملے اس کا کیا کریں ؟ آپ علیہ السلام نے ارشاد فرمایا : ایک سال تک اس کی تشہیر کرو، اگر اس کا مالک مل جائے تو اچھا ہے اگر نہ ملے تو پھر وہ تیرے لئے ہے۔

حواشی
(١) في [ز]: (عمر).
(٢) منقطع حكمًا؛ ابن إسحاق مدلس عنعن وقد تولع، أخرجه أحمد (٦٦٨٣)، وأبو داود (١٧٠٨)، والنسائي (٥/ ٤٤)، وابن خزيمة (٢٣٢٨)، والبيهقي (٦/ ١٩٧)، والبغوي (٢٢١١)، والطبراني في الأوسط (٥٢٦)، والدارقطني (٣/ ١٩٤)، وأبو عبيد في الأموال (٨٦٠)، وابن عساكر (٤٦/ ٧٧).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22995
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22995، ترقيم محمد عوامة 22051)