مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في اللقطة ما يصنع بها؟ باب: پڑی ہوئی کوئی چیز ملے تو اُس کا کیا کرے؟
حدیث نمبر: 22994
٢٢٩٩٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شريك عن عامر بن شقيق عن أبي وائل قال: اشترى عبد اللَّه جارية بسبعمائة درهم، فغاب صاحبها فانشدها حولًا -أو قال: سنة- ثم خرج إلى المسجد فجعل يتصدق ويقول: اللهم فله، فإن أبي فعلي (١)، ثم قال: هكذا افعلوا باللقطة أو بالضالة (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو وائل سے مروی ہے کہ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے سات سو دراہم میں باندی خریدی، باندی کا مالک غائب ہوگیا تو آپ نے ایک سال تک اس کی تشہیر کی پھر مسجد میں آئے اور وہ صدقہ کر دئیے اور فرمایا : اے اللہ ! یہ اس کے لئے ہیں، اگر وہ انکار کر دے تو پھر میرے لئے ہیں۔ پھر فرمایا : گم شدہ اور ملی ہوئی شے کے ساتھ بھی اسی طرح کرو۔
حواشی
(١) في [هـ]: زيادة (وإليَّ).