مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في (العبد) يدس (إلى) الرجل المال فيشتريه باب: اس غلام کے بارے میں جو کسی شخص کو چوری چوری مال دے دے تاکہ وہ اس غلام کو خریدے
حدیث نمبر: 22971
٢٢٩٧١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم في (رجل) (١) دس إلى رجل دراهم (يشتريه) (٢) ويعتقه، قال: إن ظهر مولاه عليه قبل أن يعتقه فله ما أخذ من ثمنه ويأخذ عبده، وإن ظهر عليه بعد ما أعتقه الذي أخذه، أخذ من الذي اشتراه سوى ما (قد) (٣) (أخذ) (٤) فاعتق.مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ سے اس غلام کے بارے میں سوال کیا گیا جو کسی دوسرے کو چوری چوری دراہم دے تاکہ وہ اس کو خرید کر آزاد کرسکے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ اگر آقا غلام پر دوسرے آدمی کے آزاد کرنے سے قبل ہی قبضہ کرلے تو وہ غلام بھی لے لے گا اور اس کے ثمن بھی لے گا۔ اور اگر دوسرے آدمی کے آزاد کردینے کے بعد قبضہ کیا ہے تو آزاد کردینے کے بعدجتنی رقم بچتی ہے وہ مشتری سے معتق) لے گا۔
حواشی
(١) في [هـ]: (عبد).
(٢) في [هـ]: (ليشتريه).
(٣) سقط من: [جـ].
(٤) في [جـ]: (أخذه).