حدیث نمبر: 22958
٢٢٩٥٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن جعفر بن برقان عن ميمون بن مهران قال: فشى في عسكر عمر بن عبد العزيز أنه يرى بيع أمهات الأولاد، فدخل ⦗١١٥⦘ عليه رجل فذاكره (في) (١) ذلك، فإذا عمر (أشد) (٢) في عتقهن من الرجل الذي ذاكره ذلك، وإذا عمر يرى أن (ذلك) (٣) رأي عمر بن الخطاب (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت میمون بن مہران سے مروی ہے کہ عمر بن عبدالعزیز کے لشکر میں یہ بات پھیل گئی کہ عمر بن عبدالعزیز ام ولد کی بیع کو جائز سمجھتے ہیں۔ پھر ایک آدمی آپ کے پاس آیا اور اس نے اس بارے میں سوال کیا۔ تب معلوم ہوا کہ عمر بن عبدالعزیز سوال کرنے والے آدمی سے بھی زیادہ سختی سے ام ولد کی آزادی کے قائل تھے اور نیز عمر بن عبدالعزیز کے نزدیک عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی بھی یہی رائے تھی۔

حواشی
(١) سقط من: [جـ، ز].
(٢) في [هـ]: (أسند).
(٣) في [جـ]: (ذاك).
(٤) منقطع؛ لعدم إدراكهم لعمر بن الخطاب.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22958
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22958، ترقيم محمد عوامة 22015)